قرطبہ

ایک ماہر ریاضٰی دان ابو عبداللہ بن ابو معادہ

ایک ماہر ریاضٰی دان ابو عبداللہ بن ابو معادہ

اندلس کا ماہر ریاضی دان

ابو عبداللہ بن معادہ الخیانی 989 میں اندلس کے شہر خیان Jaen میں میں پیدا ہوئےان کو
عربی لسانیات، وراثت کے قوانین اور ریاضی، قرآن میں ایک ماہر کے طور پر بیان کیا جاتا ہے. الخٰیانی کو، ان کی تحریروں کی روشنی میں جج اور ایک قانون دان کے طور پر پہچانا جاتا ہے الخیانی نے ایک رسالہ سورج گرہن پر بھی لکھا ہے جو جولائی 1079 1 پر Jaén میں ہوا تھا،یہ رسالہ لکھتے وقت الخیانی کی عمر 90 سال تھی۔

ان کے بارے میں خٰیال کیا جاتا ہےکے 1012 سے 1017 تک وہ قاہرہ میں بھی رہتے تھے لیکن ان کی وجہ شہرت اندلس کا شہر خیانJaen بنا اسلیے انکے نام کساتھ الخیانی لکھا جاتا ہے ان کا تصنیف المسایل جو کےعلم ریاضٰی کے موضؤع تناسب پر ہے کافی مشہور ہوئی، تناسب پر یہ ایک ریفرینس کے طور پر اسعتمال ہوتی ہے اس کا ترجمہ دنی اکی بیشتر زبانوں میں ہو چکا ہے علم ریاضی کے تناسب کے فارمولے مٰیں پانج اجزا شامل ہیں، الخیانی سے پہلے یہ چار تصور کیے جاتے تھے انہوں ںے اعداد کو بھی اس تناسب میں شامل کیا اس کے بعد سے یہ پانج مانے جاتے ہیں۔Image

Advertisements

گوگل اینڈروئیڈ کا تعارف

جیسے جیسے موبائل فونز کے صارفین کی تعداد بڑھتی جارہی ہے، موبائل فونز ٹیکنالوجی میںبھی آئے روز نئی نئی جدتیں متعارف کروائی جارہی ہیں۔ ایک سادہ سے ہینڈ سیٹ (Handset) جو صرف فون کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا تھا، سے شروع ہونے والی داستان نے ہماری روز مرہ کی زندگی کو تبدیل کرکے رکھ دیا ہے۔ موبائل فونز اب صرف کان سے لگا کر باتیں سننے اور کہنے کے لئے نہیں رہے، اب یہ ایک مکمل کمپیوٹر کی شکل اختیار کرچکے ہیں۔ ان میں کیمرا بھی نصب ہے اور ریڈیو بھی، یہ میوزک پلیئر بھی رکھتے ہیں اور بعض اوقات ٹی وی بھی، ان پر انٹرنیٹ استعمال کرنا اب ایسا ہی ہے جیسے عام کمپیوٹر پر انٹرنیٹ استعمال کرنا۔ یہ سب سہولیات صرف موبائل فون ہارڈ ویئر میں ترقی کا ثمر نہیں ہیں، بلکہ اس میں سافٹ ویئر یعنی موبائل فون آپریٹنگ سسٹم کا بھی بہت بڑا ہاتھ ہے۔

اینڈروئیڈ کے لفظی معنی manlike ہیں یعنی انسان جیسا

اینڈروئیڈ کے لفظی معنی manlike ہیں یعنی انسان جیسا

موبائل فونزکے لئے آپریٹنگ سسٹم گزشتہ ایک دہائی میں بہت ترقی کرچکے ہیں۔ ان کی ابتدائی شکل ایک سیاہ وسفید ڈسپلے اور بنیادی سہولیات تک محدود تھی۔ لیکن اب یہ آپریٹنگ سسٹم کسی بھی طرح ڈیسک ٹاپ کمپیوٹرز پر چلنے والے آپریٹنگ سسٹمز سے کم نہیں ہیں۔ 1996ء میں Palm OSہو یا 2000ء میں ونڈوز پاکٹ پی سی ، ہر نئے آپریٹنگ سسٹم نے موبائل فونز کو جدید سے جدید تر بنایا۔ جب کہ حالیہ سالوں میں بلیک بیری او ایس، ایپل آئی او ایس اور اینڈروئیڈ نے اسمارٹ فونز کو ایک نئی جہت بخشی ہے۔

اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا موبائل او ایس ’’انڈروئیڈ‘‘ ہے۔ گوگل اسے ایک سافٹ ویئر اسٹیک (Stack) کے طور پر متعارف کرواتا ہے کیونکہ یہ ایک صرف او ایس ہی نہیں بلکہ اس میں مڈل ویئر (وہ سافٹ ویئر جو مختلف ایپلی کیشنز کو نیٹ ورک پر اور ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کرنے کی سہولت دیتا ہے) اور ایپلی کیشنز بھی شامل ہیں۔

اینڈروئیڈ انکارپوریشن وہ کمپنی ہے جس نے انڈروئیڈ کی ڈیویلپمنٹ شروع کی تھی۔ یہ کمپنی 2003ء میں پالوآلٹو (Palo Alto)، کیلی فورنیا میں قائم کی تھی۔ ابتداء میں اینڈروئیڈ کی ڈیویلپمنٹ میں گوگل کا کردار صرف سرمایہ کار جیسا تھا اور اس آپریٹنگ سسٹم کی تمام تر تفصیلات کو خفیہ رکھا گیا تھا۔ 2005ء میں گوگل نے اینڈروئیڈ انکارپوریشن کو خرید لیا۔ اینڈروئیڈ کا باقاعدہ اعلان2007ء میں Open Handset Allianceکے پلیٹ فارم سے کیا گیا۔ او ایچ اے86 مشہور و معروف سافٹ ویئر، ہارڈویئر اور ٹیلی کمیونی کیشن کمپنیوں پر مشتمل اتحاد ہے جس کا مقصد موبائل فونز کے لئے اوپن اسٹینڈرز بنانا ہے۔اینڈروئیڈ کو پہلا ورژن البتہ ستمبر 2008ء میں جاری کیا گیا تھا۔

اینڈروئیڈ لینکس پر بنیاد رکھنے والا آپریٹنگ سسٹم ہے جس کا سورس کوڈ بھی گوگل نے جاری کررکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت اینڈروئیڈ دنیا بھر میں موبائل فونز بنانے والی کمپنیوں اور ڈیویلپرز کا پسندیدہ ترین او ایس ہے۔ اس کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ گوگل پلے (Google Play) پر جون 2012ء تک چھ لاکھ سے زائد ایپلی کیشنز ڈائون لوڈنگ کے لئے موجود تھیں اور اندازے کے مطابق اب تک 20ارب سے زائد بار مختلف ایپلی کیشنز گوگل پلے سے ڈائون لوڈ کی جاچکی ہیں۔ سال 2012ء کی پہلی سہ ماہی میں گوگل اینڈروئیڈ اسمارٹ فون مارکیٹ میں 59فی صد حصے کا مالک تھا جبکہ اسی سال کی دوسری سہ ماہی میں دنیا بھر 400ملین ڈیوائسس اینڈروئیڈ پر چل رہی تھیں جب کہ اس میں روزانہ ایک ملین مزید ڈیوائسس کا اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

اب تک گوگل اینڈروئیڈ کے کئی ورژن جاری کئے جاچکے ہیں۔ اس کا پہلا ورژن 1.0 ستمبر 2008ء میں جاری کیا گیا تھا اور اس پر مبنی پہلا موبائل فون HTC Dreamتھا۔ ابتدائی ورژن ہونے کے باوجودہ اینڈروئیڈ کا یہ ورژن اس وقت دستیاب دوسرے مشہور او ایس کے مقابلے میں بہت بہتر تھا۔اس کے بعد کپ کیک ، ڈونٹ ، ایکلیئر، فرویو، جنجر بریڈ،  ہنی کومب، آئس کریم سینڈوچ اور جیلی بینز نامی ورژن جاری کئے گئے ہیں۔ اس وقت تازہ ترین ورژن جیلی بینز ہے جسے 9جولائی 2012ء جو جاری کیا گیا تھا اور سام سنگ نیکسس وہ پہلا فون تھا جو جیلی بینز کا حامل تھا۔ کئی بہتر ورژن ہونے کے باوجود ، اس وقت گوگل اینڈروئیڈ کا ورژن جنجر بریڈ سب سے زیادہ مقبول ہے اور اینڈروئیڈ پر چلنے والی ڈیوائسس میں سے 60فیصد جنجر بریڈ پر چلی رہی ہیں۔ اس کے بعد آئس کریم سینڈوچ اور فرویو کی باری آتی ہے جن کا حصہ 15، 15فی صد ہے۔ جبکہ کپ کیک کا حصہ صرف 0.2فی صد رہ گیا ہے۔

اینڈروئیڈ پر چلائی جانے والی ایپلی کیشنز عام طور پر جاوا میں لکھی جاتی ہیں جنہیں اینڈروئیڈ سافٹ ویئر ڈیویلپمنٹ کٹ کی مدد سے تیار کیا جاتا ہے۔ لیکن دیگر دستیاب ٹولز اور ڈیویلپمنٹ کٹس کی مدد سے پروگرامنگ جاوا کے بجائے سی، سی پلس پلس میں بھی کی جاسکتی ہے۔ اس کے علاوہ ایپ انوینٹر فار اینڈروئیڈ کی مدد سے بھی ایپلی کیشنز بنائی جاسکتی ہیں۔ ایپ انوینٹر(http://appinventor.mit.edu/) ایک آن لائن ایپلی کیشن ہے جسے استعمال کرنے کے لئے پروگرامنگ سے واقفیت ضروری نہیں۔

اگرچہ گوگل اینڈروئیڈ کو بنیادی طور پر موبائل فونز اور ٹیبلٹس کے لئے تیار کیا گیا تھا لیکن اس کے اوپن سورس ہونے کے وجہ سے اسے کئی دوسرے مقاصد کے لئے استعمال کیا جارہاہے۔ گوگل ٹی وی(Google TV) میں بھی اینڈروئیڈ ہی کا تبدیل شدہ ورژن استعمال ہورہا ہے جسے انٹل کے x86 پروسیسرز کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ بنیادی طور پر اینڈروئیڈ ARMآرکیٹیکچر کے لئے تیار کیا گیا تھا لیکن اب اسے x86 اور MIPSآرکیٹیکچر پر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ لیپ ٹاپس، کمپیوٹرز، اسمارٹ بکس، ای بک ریڈر جیسے آلات بھی اب گوگل اینڈروئیڈ پر چلائے جارہے ہیں۔ جب کہ وہ دن بھی دور نہیں جب فریج، اے سی، گھڑیاں، گاڑیاں، کیمرے، گیم کنسولز بھی گوگل اینڈروئیڈ پر چلتے نظر آئیں گے

استنبول، جدید یت اور اسلام

استنبول مٰں ایک دن، جدید ترقی اور اسلامی ثقافت

استنبول شہر یورپ کے جدید شہروں کے مقابلے کا ایک شہر ہے اس میں صفائی ک ابہترین نظآم ہے جو چیز استبول کو دوسرے یوری شہروں سے جدا ی اممتاز کرتی ہے وہ اس کا اسلامی تشخص ہے، جیسے ہی ایرپورٹ سے باہر نکلا اور ہوٹک کی جانب بزرعی بس روانہ ہوا تو ہر چوک اور اور مرکزی جگی اور پارکوں کے اندر ایک خوبصورت مسج اور اسکا بلند مینار نظر آیا، استبول کی بیشر مساجد کا طرز تعمیر ایک جیسا ہے ، استنبول کو میناروں کا شہر کہا جا سکتا ہے

بلیو مسجد کے قریب ہی ایک سبز رنگ کا فورا دیکھا جس کے اوپ رتحریر سے معلوم ہوا کے یہ جرمنی کے شہنشاہ نے سلطنت عژمانیہ کو تحفہ میں دیا تھا

بلیو مسجد کے قریب بازار مین کھانے پینے کے بے شمار رسیٹورنٹ ہیں جہاں بے انہتا رش ہوتا ہے ترک قوم لباس اور خوارک کے معاملے مٰں انتائی نفسین مزاج ہیں
خواتین نے جو حجاب لیے ہویے تو وہ بھی انتہائی خوبصورت رنگون والے تھے،
ترک معاشرے میں پاکستان کی نسبت برداشت کافی زیادہ ہے ایک جانب باحجاب خؤاتین اور ساتھ ہی سکرٹ پینے خواتین بھیٹی ہیں،

ٹوپی کاپی کے علاقے مٰیں ہی فتح قسطنطنیہ کی کہانی کو تصویری البم کی شکل میں ایک میوزیم میں سجایا گیا ہے Panorama 1453 کے نام سے

جاری ہے

سفرنامہ ترکی، استنبول مٰیں ایک دن

سفرنامہ ترکی، استنبول مٰیں ایک دن.

سفرنامہ ترکی، استنبول مٰیں ایک دن

استنبول مٰک دن ، حجاب اور سکرٹ 

ترکی کے بارے مٰن بچپن سے پڑھ رکھا تھا کے یہ خلافت کا مرکز تھا جسے 1924 میں پہلی عالمی جنگ کے بعد کمال اتاترک نے ختم کر کے ترکی کو ایک جدید سیکولر جمہوریہ بنا دیا،درسی کتب مٰین برصغیر مٰیں تحریک بحالی خلافت کے بارے مٰیں پڑھ رکھا تھا جس میں محؐمد علی جوہر کی والدہ کا ایک مشہور شعر بھی تھا ، ماں محمد علی کی بولی، جاں بیٹآ خؒلافت پر وار دو، اس دفعہ اسپین واپسی کا سفر کچھ اسطرح بنا کے ایک دن ترکی کے درالحکومت استنبول میں رکنا پڑا، استبول ایسا واحد شہر ہے جو دو براعظموں میں پھیلا ہوا ہے، اس کا پرانا نام قسطنطنیہ تھا کسی دور مٰیں یہ بازطینی عیسائی دنیا کا مرکز تھا، اسی شہر کے بارے مٰن نبی رحمت صلی اللہ و علیہ واسلم کی ایک حدیث مشہور ہے کہ جو لشکر قسطنطنیہ کو فتح کرے گا وہ سارا لشکر جنتی ہوگا، اسی لیے مشہور صحآبی حضرت ایوب انصاری نے 90 سال کی عمر میں قسطنطنیہ پر حملہ کرنے والے لشکر میں شرکت کی اور دوران جہاد بیماری سے شہید ہویے، ان کو شہر کی فصیل کے قریب دفن کیا گیا،

اسلام آباد سے تقریبا ساڑھے چار گنھٹے کی فلائیٹ کے بعد استبول کے کمال اتاترک ایرپورٹ پر پہنچنے پر وہاں کونٹڑ پر ہی 15 یور کے عوض 30 دن کا ویزہ حآصل کیا، ترکی حکومت نے سیاحٹ کے فروغ کے لیے بیشتر ممالک کے افراد کو یہ سہولت ایرپورٹ پر ہی مہیا کئی ہوئی ہے،
ویزہ حاصل کرنے کے بعد ترکش ایرلاین کے ہوٹل ڈسک کی تلاش کی جو کافی دیر کے بعد ملا، ترکش ایر لاین ایسے مسافر جو استنبلو سے آگے جا رہے ہوں مگر 24 گھنٹے ک اقیام استنبول مٰں کو 5اسٹآر مہیا کرتی ہے، اس کے مقابلے مٰیں پاکستان کی قومی ایرلاین اکثر 24 گھنٹے مسافروں خو خؤار ہی کرتی ہے۔ 

کچھ گھنٹے آرام کے بعد سب سے پہلے صحآبی رسول حضرت ایوب انصاری کے مزار کی زیارت کا پروگرام بنایا، ہوٹل سے نقشہ اور معلمومات مل گئی، استبول جو کے 2 ملین افراد کا شہر ہے میں ٹریفک ک انظآم انتہائی اعلی معیار کا ہے سڑکوں کا جال بھا ہوا ہے، زیرزمین ٹرین کے علاوہ ٹرام اور چھوٹی بسوں کے الگ الگ ٹریک بنے ہویے ہیں، ٹکٹ انتہائی مناسب قیمیت پر،

جس علاقے مٰن مزار واقع ہے اس AYUP SULTAN کہا جاتا ہے ترکی میں ایوب کو ایوپ پکارا جاتا ہے جب اس علاقے میں پینچا تو ہر جانب حجاب کئی ہوئی بوڑھی اور نوجوان خواتیں مزار کی جانب جاتی ہوئی نظر آئیں، مزار کے ساتھ متصل مسجد ہے جس مٰں خؤاتین کے لیے الگ سے جگہ بنی ہوئی تھی، ہزاروں کی تعداد میں باحجاب خواتین دیکھ کر دل لو خؤشی ہوئی کے کمال اتاترک اور اس کے بعد کے سیکولر آمروں کی بھرپور کوششوں کے باوجود ترکی قوم کو اسلام اور اسلامی رویات سے بلکل دور نہٰن کیا جا سکا،البتہ ان کی کوششوں کی وجہ سے سکرٹ والی خواتین بھی جا بجا نظر آئیں مگر جو وقار حجاب مٰں نظر آ رہا تھا وہ ایک الگ ہی بات تھی،

جاری ہے

ابن رشد ، اندلس کا ایک عظیم فلسفی

ابو ولید محؐد ابن محمد ابن رشد جو یورپ میں ابیروس کے نام سے مشہور ہیں 1128 عیسوی میں اندلس کے شہر قرطبہ میں پیدا ہویے  جہاں ان کے باپ اور داد قاضی کے عہدوں پر فایز رہے تھے  ان کے دادا فقہ مالکی کے بڑے عالم تھے اور ساتھ قرطبی   کی جامع مسجد کے امام بھی رہے تھے ابنرشد نے اپنی اندائی تعلم قرطبہ میں ہی رہ کر حاصل کی اور نوجوانی کی عمر قرطبہ کے علمی ماحول میں گزارنے کے بعد قانون اور فلسفہ کی تعلیم ابو جعفر اور ابن باخہسے حاصل کی اس کے علادہ ابن رزشد نے علم الادویہ کو بھی پڑھا  اندلس کے مشہور خیلفی الحم نے جو علمی ماحول پید اکیا تھ اقرطبی میں جہاں اس نے 50000 سے زید کتابوں پر مستمل ایک کتب خانہ بنایا تھا اس ماحول نے ابن رشد کے علمی زوق کو مزید پروان چڑھایا ، ماراکش کے حکمران نابو یعقوب نے انہیں اپنا معالج بنا کر مراکش بلا لیا، مگر کچھ عرصے بعد ان کے علمی نظریات سے اختلاف پر ان کو اندلس واپس بیج دیا گیا اور ان کی ساری علمی کتابیں جو فلسفانہ مسائل پر لکھی گئی تھیں کو جلا دیا گیا، پھر چنف  علما کے پرزار اصرار پر ان کو معاف کر دیا گیا  ابن رشد نے فلسفہ کے علاوہ علم الادویہ پر بھی کتب لکھیں نے میں سے ایک  کتاب  کتاب کلیات فی طب  کے نام سے کافی مشہور ہوئی یہ کتاب انہوں نے 1162 عیسوی میں لکھی بعد میں یہ لاطینی زبان میں ترجمہ ہو کر یورپ میں پہنچی اس کتاب میں ابن رشد نے مخلتف بےماریوں اور ان کے علاج کے طریوے پر بحث کی تھی  ابن سیا کی مشہور کتاب  القانوں میں  اس کتاب کے بے شمار حوالے دیے گیے ہیں اس سے آپ اس کتاب کی اہمیت کا اندازہ لگا سکتے ہیں فلسفہ کے میدان میں غزالی کے جواب میں ابن رشد نے  توحفتہ ال توحافت لکھی  بےشمار علما نے ابن رشد کی اس کتاب پر کافی تنقید بھی کی ہے  ابن رشد نے علم نضوم پر بھی کتاب لکھی جس کا نام  کتاب فل حرکات فلک ہے جس میں سیاروں کی حرکات پر پحث کی گئی ہے مشہور تاریخ دان ابن ابار کے مطابق ابن رشد کا علمی کام 20000 صفات پر مشتمل تھا  ابن رشد نے علم فقہ میں فقہ مالکی پر بھی بےشمار کتب لکھی ان میں سے مشہور  بداتالمجتہد  ہے، ابن رشد کی اکثر کتب بعد میں انگلش اور لاطینی اور جرمن زبانوں مین ترجمہ ہو کر پوری دینا میں پھیلی  مشہور تاریخ دان فلپ ہیٹۓی کے مطابق 12 صدی کے اس عظیم فلسفی کا اثر 16 صدی  Imageتک پورے یورپ کی فکر پر پڑھا ان کی اکثر کتب یورپ کی جامعات میں پڑھائی جاتی رہی

ماہر نباتات ابن بطیار

لاندلس کے شہر مالگا کے قریب پیدا ہونے والے ابو محمد عباللہ ابن بطیار 12 صدی کے عظیم اور مشہور ماہر نباتات تھے، انہوں نے یہ علم ماہر بناتات ابو علی عباس بناتی سے حاصل کیا ، کچھ عرصہ اپین میں پودوں کے نمونے جمع کرنے کے بعد انہوں نے افریقہ اور شرق اوسط کا رخ کیا اور اس سفر میں ہر علاقے سے پوودوں کے نمونے اکھٹے کیے اور ان پر تحققیق کی ابن بطیار تیونس سے ہوتے ہویے قسطنطنیہ سے ہو کر مصر جا پہنچے جہاں مصر کے  گوونرکمال  نے انہیں اپنا زاتی معالج بنا لیا 1227 میں۔ کمال جب دمشق گیا تو اس نے ابن نظیار کو بھی ساتھ لے لیا جہاں جا کر ابن بطیار نے عرب کے تمام علاوقں سے بناتا کے نمونے حاصل کیے اور ان پر تحقیق220px-Ibn_al-Baytar کی، 1247 میں ابن بطیار کا انتقال دمشق میں ہی ہوا   ابن بطیار کا سب سے مشہور کام اس کی انسکائیلوپیڈیا بناتا ہے جو عرب میں پائے جانے والے ایسے پودوں پر مشتمل ہے جو ادوایات میں استعمال کیے جاتے ہیں  اس کتاب کا نام،    کتاب الجامع فل ادویہ و المفردہ ہے اس کتاب میں 1500 سے زائید پودوں کے بارے میں معلومات موجود پہں ، یہ کتاب 16 صدی تک اس میدان میں ایک  ریفرنس  کے طور پر استعمال ہوتی رہی 1758 میں اس کا ترجمہ لاطینی زبان میں ہوا   ابن بظیار کی دوسری مشہور تصنیف  کا نام  کتاب المغنی فل الدویہ و مفردہ  ہے  اس کتاب میں جہاں پودوں کے متعلق اس نے اب خیالات اور آرا پیش کیں وہاں ہی لاطینی اور عرب  اطبا کے اقوال بھی  بیان کیے اس طرح 150 سے زیادہ ااسیے پودے جو مختلف بیماریوں کے علاج میں استعمال کیے جاتے ہیں کا تفصیلی زکر کیا  ا

Enter your email address to follow this blog and receive notifications of new posts by email.

Join 876 other followers